صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب جلود الميتة - ذكر البيان بأن الانتفاع بجلود الميتة بعد الدباغ جائز باب: مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مردار کی کھالوں سے دباغت کے بعد نفع اٹھانا جائز ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ لِي غَنْمٌ بِأُحُدٍ ، فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ : لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ وَيَحِلُّ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابِهَا ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ " .عبداللہ بن مالک اپنی والدہ سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری بکریاں احد پہاڑ کے پاس موجود تھیں۔ ان میں سے ایک مر گئی تھی، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا تم اس کی کھال لے کر نفع حاصل کر لو وہ خاتون بیان کرتی ہیں (میں نے دریافت کیا:) کیا یہ جائز ہے؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو اپنی بکری کو یوں کھینچ رہے تھے جیسے گدھے کو کھینچا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم لوگ اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کر لیتے۔ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی اور قرظ کے پتے اسے پاک کر دیں گے۔