صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب جلود الميتة - ذكر إباحة الانتفاع بجلود الميتة التي تحل بالذكاة إذا دبغت باب: مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ذکاة سے حلال ہونے والی مردار کی کھالوں سے نفع اٹھانا جائز ہے اگر وہ دباغت کی جائیں
حدیث نمبر: 1284
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلاةٌ لَمْيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ! ، قَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری کو مردار پایا جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو صدقے میں سے دی گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے۔ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔