صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الماء المستعمل - ذكر إباحة التبرك بوضوء الصالحين من أهل العلم إذا كانوا متبعين لسنن المصطفى صلى الله عليه وسلم دون أهل البدع منهم باب: استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صالحین علماء کے وضو کے پانی سے تبرک کرنا جائز ہے اگر وہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والے ہوں، نہ کہ بدعتیوں میں سے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، وَرَأَيْتُ بِلالا أَخْرَجَ وَضُوءَهُ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ وَضُوءَهُ يَتَمَسَّحُونَ ، قَالَ : ثُمَّ أَخْرَجَ بِلالٌ عَنْزَةً فَرَكَزَهَا ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ سِيَرَاءَ ، فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَالدَّوَابُّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ " .عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ خیمے میں دیکھا میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے بچے ہوئے پانی کی طرف تیزی سے لپکے اور وہ اسے (اپنے جسم) پر ملنے لگے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر باہر آئے۔ انہوں نے اسے گاڑ دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کے سیرانی حلے میں باہر تشریف لائے آپ نے اس نیزے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جبکہ اس کے دوسری طرف سے لوگ اور جانور گزر رہے تھے۔