صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الوضوء بفضل وضوء المرأة - ذكر خبر يصرح باستعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم هذا الفعل المزجور عنه باب: عورت کے بچے ہوئے وضو کے پانی سے وضو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو واضح کرتی ہے جس سے منع کیا گیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ : " الْمَاءُ لا يُجْنِبُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَقُلْ فِي جَفْنَةٍ إِلا أَبُو الأَحْوَصِ ، فَإِنَّهُ قَالَ : فِي جَفْنَةٍ ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ دَالَّةٌ عَلَى نَفِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمُلامَسَةِ إِذَا كَانَتْ مَعَ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کرنے کا ارادہ کیا، تو اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنابت کی حالت میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ” (فی جفنہ کے الفاظ صرف ابواحوص نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ ” فی جفنہ “ اور یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ محرم خواتین کو چھو لینے سے وضو لازم نہیں ہوتا۔