صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن اغتسال الجنب في البئر ينجس ما فيه من الماء باب: پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ جنب کا کنویں میں غسل کرنا اس کے پانی کو نجس کر دیتا ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُكَ ، فَحِدْتَ عَنِّي " ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ " .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوتی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے آپ کو صبح کے وقت دیکھا تو میں آپ کے سامنے آنے سے ہٹ گیا پھر میں دن چڑھنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تھا تم میرے سامنے سے ہٹ گئے تھے۔ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھے مس نہ کر دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔