صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر إثبات الهدى لمن اتبع القرآن والضلالة لمن تركه- باب: - قرآن کی پیروی کرنے والے کے لیے ہدایت اور اسے چھوڑنے والے کے لیے گمراہی کے ثبوت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ : لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا ، صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَإِنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ كِتَابَ اللَّهِ ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ ، مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى ، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلالَةِ " .یزید بن حیان، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے ان سے گزارش کی آپ نے بھلائی کو دیکھا ہے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازیں ادا کی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جا رہا ہوں، یہ اللہ کی رسی ہے، جو شخص اس کی پیروی کرے گا، وہ ہدایت پر گامزن رہے گا اور جو شخص اسے چھوڑ دے گا، وہ گمراہی کے راستے پر ہو گا ۔“