صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر نفي الضلال عن الآخذ بالقرآن- باب: - قرآن کو تھامنے والے کے لیے گمراہی کے نہ ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا وَأَبْشِرُوا ، أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا ، وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا " .سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔ تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔ کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک یہ قرآن ایک رسی کی طرح ہے، جس کا ایک کنارہاللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے، اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ تم اسے مضبوطی سے تھام لو، تو اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے اور ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے ۔“