صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب أحكام الجنب - ذكر البيان بأن الوضوء للجنب إذا أراد النوم ليس بأمر فرض لا يجوز غيره باب: جنابت (جنبی ہونے) کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جنب کے لیے سونے سے پہلے وضو کرنا فرض نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور عمل جائز نہ ہو
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَنَامُ أحدنا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں اگر وہ چاہے، تو وضو کر کے (سو) جائے۔