صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الغسل - ذكر البيان بأن ترك الاغتسال من الإكسال كان ذلك في أول الإسلام ثم أمر بالاغتسال منه بعد باب: غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اکسال سے غسل ترک کرنا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر اس سے غسل کا حکم دیا گیا
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيٌّ ، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ ، كَانَ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ ، أَوْ بَدْءِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالاغْتِسَالِ بَعْدُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَدَّى نَسْخَ هَذَا الْفِعْلِ عَلَى مَا أَخْبَرَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ ، ثُمَّ نَسِيَهُ ، وَأَفْتَى بِالْفِعْلِ الأَوَّلِ الَّذِي هُوَ مَنْسُوخٌ ، عَلَى مَا أَخْبَرَ عَنْهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے لوگ جو یہ مسئلہ بیان کرتے ہیں: پانی کے نتیجے میں پانی (یعنی منی کے خروج کی صورت میں ہی) غسل لازم ہوتا ہے، تو یہ ایک رخصت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی زمانے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسلام کے ابتداء میں عطا کی تھی، پھر آپ نے اس کے بعد غسل کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس فعل کے منسوخ ہونے کا پہلے ذکر کیا ہو۔ جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد نے ان کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے۔ پھر وہ اس بات کو بھول گئے ہوں اور انہوں نے یہ فتوی دیا ہو کہ اس فعل کے حوالے سے جو پہلا حکم تھا جسے منسوخ کر دیا گیا جیسا کہ زید بن خالد جوہری نے ان کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے۔