صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الغسل - ذكر ما كان على من أكسل في أول الإسلام سوى الاغتسال من الجنابة باب: غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اکسال سے جنابت کے غسل کے علاوہ کیا تھا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ ، فَلا يُنْزِلُ ، فَقَالَ : " لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ " . ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .زید بن خالد بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا ایسے شخص پر غسل لازم نہیں ہوتا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی۔ میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی سنی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں، میں نے سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا، تو ان حضرات نے بھی اسی کی مانند جواب دیا: ابوسلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں۔ عروہ بن زبیر نے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند بات بیان کی۔