حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ فُلانٌ ؟ " فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلا ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ عَنْ حَاجَتِكَ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أُعْجِلْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ ، أَوْ أُقْحِطَ ، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَتَوَضَّأَ " .

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے آپ کا گزر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے۔ راوی کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا وہ شخص جلدی سے اندر سے باہر آیا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ مجھے جلدی کرنی پڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو یا اسے (وقت کی تنگی ہو، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا۔ اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1171
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (210): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا محمد بن وهب بن أبي كريمة، وهو صدوق.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1168»