صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الغسل - ذكر ما كان على من أكسل في أول الإسلام سوى الاغتسال من الجنابة باب: غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اکسال سے جنابت کے غسل کے علاوہ کیا تھا
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ فُلانٌ ؟ " فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلا ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ عَنْ حَاجَتِكَ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أُعْجِلْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ ، أَوْ أُقْحِطَ ، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَتَوَضَّأَ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے آپ کا گزر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے۔ راوی کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا وہ شخص جلدی سے اندر سے باہر آیا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ مجھے جلدی کرنی پڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو یا اسے (وقت کی تنگی ہو، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا۔ اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔