صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الغسل - ذكر ما كان على من أكسل في أول الإسلام سوى الاغتسال من الجنابة باب: غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اکسال سے جنابت کے غسل کے علاوہ کیا تھا
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا إِذَا جَامَعَ الْمَرْأَةَ فَأَكْسَلَ وَلَمْ يُمْنِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ ، وَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيُصَلِّ " .سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اس مسئلے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چاہئے کہ اپنی شرم گاہ کو اپنے خصیوں کو دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔