صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الحث على تعليم كتاب الله وإن لم يتعلم الإنسان بالتمام- باب: - قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعًا لأَصْحَابِهِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالزَّهْرَاوَيْنِ : الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا ، وَعَلَيْكُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قرآن کا علم حاصل کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لئے شفاعت کرنے والا بن کے آئے گا اور تم لوگوں پر دو چمکدار چیزوں کو اختیار کرنا لازم ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن یوں آئیں گی، جیسے دو بادل ہیں، یا جیسے یہ دو سایہ دار چیزیں ہیں، یا جیسے یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں اور یہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں بحث کریں گی۔ (یعنی ان کی شفاعت کریں گی) تم لوگوں پر سورہ بقرہ پڑھنا لازم ہے۔ اسے اختیار کرنا برکت ہے، اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے۔ اور باطل لوگ (یعنی جادوگر) اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔“