صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الوضوء لا يجب من أكل ما مسته النار خلا لحم الجزور للأمر الذي وصفناه قبل باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آگ سے متاثرہ چیز کے کھانے سے وضو واجب نہیں، سوائے اونٹ کے گوشت کے، ہمارے پہلے بیان کردہ حکم کی وجہ سے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ ، " نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلا بِالسَّوِيقِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثُرِّيَ ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ ، وَمَضْمَضْنَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح خیبر کے موقع پر روانہ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں جب ہم صہباء کے مقام پر پہنچے، یہ خیبر کے قریب ایک جگہ ہے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور عصر کی نماز ادا کی پھر آپ نے کھانا لانے کا حکم دیا تو صرف ستو پیش کئے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں پانی میں گھول دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھا لیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھا لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو آپ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے از سرنو وضو نہیں کیا۔