صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر إباحة ترك الوضوء مما مسته النار من الأسوقة باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بازار سے خریدی گئی آگ سے متاثرہ چیز سے وضو ترک کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1152
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَلَمْ يُوجَدْ إِلا سَوِيقٌ ، قَالَ : فَأَكَلْنَاهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم خیبر کے ایک مقام روحاء پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا تو کھانے میں صرف ستو دستیاب ہوئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے انہیں کھا لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور نماز ادا کر لی۔ آپ نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔