صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الحث على تعليم كتاب الله وإن لم يتعلم الإنسان بالتمام- باب: - قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ يَأْخُذُهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ ، وَلا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ؟ " ، قَالُوا : كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلاثٍ ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ عِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ أُضْمِرَ فِيهِ كَلِمَةٌ وَهِيَ : لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ : فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاثٍ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، لأَنَّ فَضْلَ تَعَلُّمِ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ فَضْلِ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلاثٍ وَعِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُشَبِّهَ مَنْ تَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي الأَجْرِ بِمَنْ نَالَ بَعْضَ حُطَامِ الدُّنْيَا ، فَصَحَّ بِمَا وَصَفْتُ صِحَّةُ مَا ذَكَرْتُ .سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ہم اس وقت صفہ میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے، وہ بطحان یا عقیق جائے، اور روزانہ وہاں سے دو ایسی اونٹنیاں لے آیا کرے، جن کی کوہان بلند ہو، اور ان کی رنگت چمکدار ہو۔ وہ کسی گناہ اور کسی قطع رحمی کے بغیر انہیں حاصل کر لے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کوئی شخص مسجد جائے، اور اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرے۔ یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے، اور تین (آیات کا علم حاصل کرنا) تین اونٹنیاں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے، اور چار (آیات کا علم حاصل کرنا) ان کی تعداد کے جتنے اونٹ حاصل کرنے سے بہتر ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں ایک کلمہ پوشیدہ (یعنی محذوف) ہے اور وہ یہ ہے: ” اگر وہ اسے صدقہ کر دے ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہو گی: آدمی کا اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا اس کے لئے دو یا تین اونٹنیوں کو صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا دو یا تین اونٹنیوں یا ان جتنے اونٹوں کو صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنے کے اجر کو دنیاوی سازو سامان کے حصول سے تشبیہ دیں۔ اس لئے میں نے جو وضاحت کی ہے: وہ درست ہو گی۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔