صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن الأكل الذي وصفناه من المصطفى صلى الله عليه وسلم اللحم الذي لم يتوضأ منه كان ذلك لحم شاة لا لحم إبل باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ کھانے سے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گوشت کھایا اور اس سے وضو نہیں کیا، وہ بکری کا گوشت تھا، نہ کہ اونٹ کا گوشت
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَبَسَطَتْ لَهُ عِنْدَ صَوْرٍ ، وَرَشَّتْ حَوْلَهُ ، وَذَبَحَتْ شَاةً فَصَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا ، فَأَكَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ لِصَلاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّى ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ فَضَلَتْ عِنْدَنَا مِنْ شَاتِنَا فَضْلَةٌ ، فَهَلْ لَكَ فِي الْعَشَاءِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری خاتون کے ہاں تشریف لائے اس نے کھجوروں کے درختوں کے جھنڈ کے قریب آپ کے لئے بچھونا بچھا دیا۔ اس کے ارد گرد پانی چھڑک دیا اس نے ایک بکری ذبح کی اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھا لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کے لئے وضو کیا پھر نماز ادا کی۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے ہاں اس بکری کے گوشت میں سے کچھ کھانا بچ گیا ہے کیا آپ اسے کھانا پسند کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا ہم نے بھی اسے کھا لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی اور آپ نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔