صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه ناسخ للأمر الذي ذكرناه أو مضاد له باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ حکم کو منسوخ کرتی ہے یا اس کے مخالف ہے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَحْمٍ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّفِّ وَلَمْ يَتَوَضَّئُوا " . قَالَ جَابِرٌ : " ثُمَّ شَهِدْتُ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ طَعَامًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . " ثُمَّ شَهِدْتُ عُمَرَ أَكَلَ مِنْ جَفْنَةٍ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھایا آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے پھر یہ حضرات صف کی طرف اٹھ گئے۔ انہوں نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی تھا۔ انہوں نے گوشت کھایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور ازسرنو وضو نہیں کیا پھر ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی موجود تھا۔ انہوں نے پیالے میں سے کھایا اور اٹھ کر نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔