صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر الأمر بالوضوء من أكل لحم الجزور ضد قول من نفى عنه ذلك باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو کیا جائے، اس کے برخلاف جو اس کا انکار کرتا ہے
حدیث نمبر: 1124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ " . قَالَ : أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " لا " .سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ اس شخص نے عرض کی: کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اس نے دریافت کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔