صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر بسرة أو معارض له باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ بسرہ کی خبر کے مخالف یا اس کے معارض ہے
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : " هَلْ هُوَ إِلا مُضْغَةٌ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ " .قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک شخص آیا اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ (شرمگاہ) اس کے جسم کا گوشت کا ایک لوتھڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک ٹکڑا ہے۔