صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثان يصرح بأن الوضوء من مس الفرج إنما هو وضوء الصلاة وإن كانت العرب تسمي غسل اليدين وضوءا باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ فرج کو چھونے سے وضو وہ ہے جو نماز کے لیے ہے، حالانکہ عرب ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہتے ہیں
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ " .سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اسے چاہئے کہ نماز کے وضو والا وضو کرے ۔“