صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على نفي إيجاب الوضوء من الملامسة إذا كانت من ذوات المحارم باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملامست سے وضو کی وجوب کا نفی ہوتا ہے اگر وہ محارم سے ہو
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ ، وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ ، حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا " .عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا ابوقتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ بنت ابوالعاص کو اٹھایا ہوا تھا اس بچی کی والدہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی تھیں وہ ابھی کم سن بچی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، تو بچی آپ کے کندھے پر تھی۔ جب آپ رکوع میں گئے، تو آپ نے اس کو زمین پر ایک طرف (کھڑا) کر دیا۔ جب آپ کھڑے ہوئے، تو آپ نے دوبارہ اسے کندھے پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی۔