صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب سنن الوضوء - ذكر الاستحباب أن يكون مسح الرأس للمتوضئ بماء جديد غير فضل يده باب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ سر کا مسح نئے پانی سے ہو، نہ کہ ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا ، وَالأُخْرَى مِثْلَهَا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا " .حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا۔ اپنے دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا۔ دوسرے کو بھی اسی کی مانند (تین مرتبہ) دھویا۔ اپنے سر کا مسح ہاتھ پر موجود پانی کے علاوہ اضافی پانی لئے بغیر کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا۔