صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن التحجيل يكون للمتوضئ في القيامة مبلغ وضوئه في الدنيا باب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت میں وضو کرنے والے کے لیے تحجیل اس کے دنیا میں کیے گئے وضو کے مقام تک ہوگا
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغَ الْمَنْكِبَيْنِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " . فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ .نعیم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے وضو کے دوران چہرہ دھویا اور بازوؤں کو کندھوں تک دھویا۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے اور انہیں پنڈلیوں تک دھویا پھر یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک قیامت کے دن میری اُمت کے افراد وضو کے نشان کی وجہ سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے ۔“ تم میں سے جو شخص اپنی چمک میں جتنا اضافہ کر سکتا ہو اسے کرنا چاہئے ۔“