صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الاستعاذة - ذكر الشيء الذي إذا قاله الإنسان دخل الجنة بقوله ذلك ليلا كان أو نهارا باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ اگر انسان اسے کہے، خواہ رات ہو یا دن، تو وہ اس کے کہنے سے جنت میں داخل ہوگا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ ثَعْلَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص یہ کہے: ” اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، میں نے جو کیا میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے، گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اگر وہ شخص اسی دن یا اسی رات میں فوت ہو جائے، تو جنت میں داخل ہو گا ۔“