صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الاستعاذة - ذكر ما يستحب للمرء أن يتعوذ بالله جل وعلا من سوء الجوار في العقبى به يتعوذ منه باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا سے آخرت میں برے ہمسائیگی سے پناہ مانگے
حدیث نمبر: 1033
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ ، بِعَبَّادَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِي يَتَحَوَّلُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا: (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: ”، اے اللہ! ” میں دار المقامہ “ میں بُرے پڑوس سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ دنیاوی پڑوسی تو تبدیل ہو جاتا ہے ۔“