صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الاستعاذة - ذكر ما يستحب للمرء التعوذ بالله جل وعلا من المناقشة على جناياته في العقبى والوقوع في أمثالها في الدنيا باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا سے آخرت میں اپنی خطاؤں پر مناقشہ اور دنیا میں اسی طرح کے واقعات میں پڑنے سے پناہ مانگے
حدیث نمبر: 1031
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا: (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: ” اے اللہ! میں نے جو عمل کیا ہے اور میں نے جو عمل نہیں کیا، میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔“