صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الاستعاذة - ذكر ما يستحب للمرء أن يتعوذ بالله جل وعلا من الصلاة التي لا تنفع ومن النفس التي لا تشبع باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا سے ایسی نماز سے پناہ مانگے جو نفع نہ دے اور ایسی نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو
حدیث نمبر: 1015
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لا تَشْبَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلاةٍ لا تَنْفَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ دُعَاءٍ لا يُسْمَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لا يَخْشَعُ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے) ” اے اللہ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو اور ایسی نماز سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو فائدہ نہ دے، اور میں ایسی دعا سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے اور میں ایسے دل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو خشوع والا نہ ہو ۔“