حدیث نمبر: 96
«أتعلم؟ أول زمرة تدخل الجنة من أمتي فقراء المهاجرين يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون فيقول لهم الخزنة: أو قد حوسبتم؟ قالوا: بأي شيء نحاسب وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك؟ فيفتح لهم فيقيلون فيها أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم جانتے ہو؟ میری امت کا وہ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، وہ غریب مہاجرین ہوں گے۔ وہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آ کر اسے کھلوائیں گے تو جنت کے نگہبان ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارا حساب کتاب ہو چکا ہے؟ وہ جواب دیں گے: ہمارا کس چیز کا حساب ہونا ہے؟ ہم نے تو اپنی تلواریں اللہ کے راستے میں اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھیں یہاں تک کہ ہمیں اسی حال میں موت آ گئی۔ چنانچہ ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ دیگر لوگوں کے داخل ہونے سے چالیس سال قبل ہی جنت میں آرام کر رہے ہوں گے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 96
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك, هب] عن ابن عمرو. الصحيحة ٨٥٣.