حدیث نمبر: 8138
«يقول الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي وأنا معه حين يذكرني والله لله أفرح بتوبة عبده من أحدكم يجد ضالته بالفلاة ومن تقرب إلي شبرا تقربت إليه ذراعا ومن تقرب إلي ذراعا تقربت إليه باعا وإن أقبل إلي يمشي أقبلت إليه أهرول»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے بارے میں گمان کے مطابق ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اور اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو ویرانے میں اپنی گم شدہ چیز پا لے، اور جو ایک بالشت میرے قریب آئے میں اس کے ایک ہاتھ قریب آتا ہوں، اور جو ایک ہاتھ میرے قریب آئے میں اس کے ایک باع قریب آتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.