صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
" يجيء النبي يوم القيامة ومعه الرجل والنبي ومعه الرجلان والنبي ومعه الثلاثة وأكثر من ذلك فيقال له: هل بلغت قومك؟ فيقول: نعم فيدعى قومه فيقال لهم: هل بلغكم هذا؟ فيقولون: لا فيقال له: من يشهد لك؟ فيقول: محمد وأمته فيدعى محمد وأمته فيقال لهم: هل بلغ هذا قومه فيقولون: نعم فيقال: وما علمكم بذلك؟ فيقولون: جاءنا نبينا فأخبرنا أن الرسل قد بلغوا فصدقناه فذلك قوله: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً} "(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نبی قیامت کے دن آئے گا اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو گا، اور کوئی نبی آئے گا جس کے ساتھ دو آدمی ہوں گے، اور کوئی نبی آئے گا جس کے ساتھ تین یا اس سے زیادہ آدمی ہوں گے، تو اس سے کہا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ تو اس کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: کیا اس نے تمہیں یہ پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ تو اس نبی سے کہا جائے گا: تمہارے حق میں کون گواہی دے گا؟ وہ کہے گا: محمد ﷺ اور ان کی امت۔ تو محمد ﷺ اور ان کی امت کو بلایا جائے گا، ان سے کہا جائے گا: کیا اس نبی نے اپنی قوم تک پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ ان سے پوچھا جائے گا: تمہیں اس کا کیا علم ہے؟ وہ کہیں گے: ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ سب رسولوں نے پیغام پہنچا دیا تھا، تو ہم نے ان کی تصدیق کر لی۔ یہی اللہ کے اس فرمان کا مطلب ہے: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔“