حدیث نمبر: 4633
«كان أحسن الناس» صفة وأجملها كان ربعة إلى الطول ما هوبعيد ما بين المنكبين أسيل الخدين شديد سواد الشعر أكحل العينين أهدب الأشفار إذا وطئ بقدمه وطئ بكلها ليس له أخمص إذا وضع رداءه عن منكبيه فكأنه سبيكة فضة،.. ... "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”آپ ﷺ سب لوگوں میں سب سے اچھی صورت اور سب سے خوبصورت تھے، آپ ﷺ درمیانے سے کچھ لمبے قد کے تھے، آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان کا فاصلہ خاصا کشادہ تھا، آپ ﷺ کے رخسار ہموار تھے، بال گہرے سیاہ تھے، آنکھیں سرمگیں تھیں، پلکیں گھنی تھیں، جب اپنا قدم رکھتے تو پورے پاؤں کے ساتھ رکھتے، آپ ﷺ کے تلوے میں گڑھا نہیں تھا۔ جب آپ ﷺ اپنی چادر اپنے کندھوں سے اتارتے تو گویا وہ چاندی کی ڈلی ہو…۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البيهقي] عن أبي هريرة. الضعيفة ٤١٦١.