حدیث نمبر: 4549
«كل مستلحق بعد أبيه الذي يدعى له ادعاه ورثته من بعده من كان من أمة يملكها يوم أصابها فقد لحق بمن استلحقه وليس له فيما قسم قبله من الميراث شيء وما أدرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه ولا يلحق إذا كان أبوه الذي يدعى له أنكره وإن كان من أمة لا يملكها أو من حرة عاهر بها فإنه لا يلحق ولا يورث وإن كان الذي يدعى له هوادعاه فهو ولد زنا لأهل أمه من كانوا حرة أو أمة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر وہ شخص جس کا نسب اس کے (مدعیٰ) باپ کی وفات کے بعد اس کے وارثوں نے اس کی طرف منسوب کیا ہو، اگر وہ ایسی باندی سے ہو جس کا وہ (باپ) اس کے حاصل ہونے کے دن مالک تھا، تو وہ اسی سے ملحق ہو گا جس نے اسے اپنی طرف منسوب کیا، لیکن اس کے لیے اس میراث میں سے کچھ نہیں ہو گا جو اس سے پہلے تقسیم ہو چکی، البتہ جو میراث ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس میں سے اسے اس کا حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ باپ، جس کی طرف نسب کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خود اس کا انکار کر چکا ہو تو وہ ملحق نہیں ہو گا۔ اور اگر وہ ایسی باندی سے ہو جس کا وہ (باپ) مالک نہ تھا، یا ایسی آزاد عورت سے ہو جس کے ساتھ اس نے زنا کیا ہو، تو وہ نہ اس سے ملحق ہو گا اور نہ اسے وراثت ملے گی۔ اور اگر وہ شخص جس کی طرف نسب کا دعویٰ کیا جا رہا ہے خود اس کا دعویٰ کر چکا ہو، ورنہ وہ زنا کی اولاد ہے اور اپنی ماں کے لواحقین سے (نسب رکھے گا)، خواہ وہ آزاد ہو یا باندی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. المشكاة ٣٣١٨.