حدیث نمبر: 449
«إذا توضأ العبد المؤمن فتمضمض خرجت الخطايا من فيه فإذا استنثر خرجت الخطايا من أنفه فإذا غسل وجهه خرجت الخطايا من وجهه حتى تخرج من تحت أشفار عينيه فإذا غسل يديه خرجت الخطايا من يديه حتى تخرج من تحت أضفار يديه فإذا مسح برأسه خرجت الخطايا من رأسه حتى تخرج من أذنيه فإذا غسل رجليه خرجت الخطايا من رجليه حتى تخرج من تحت أضفار رجليه ثم كان مشيه إلى المسجد وصلاته له نافلة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مومن بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پیروں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے پیروں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چل کر جانا اور اس کی نماز اس کے لیے مزید ثواب (نفل) بن جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ن هـ ك] عن عبد الله الصنابحي. صحيح الترغيب ١٨٠.