حدیث نمبر: 4467
«كانت بنوإسرائيل يغتسلون عراة ينظر بعضهم إلى بعض وكان موسى عليه السلام يغتسل وحده فقالوا: والله ما يمنع موسى أن يغتسل معنا إلا أنه آدر فذهب مرة يغتسل فوضع ثوبه على حجر ففر الحجر بثوبه فجمح موسى في أثره يقول: ثوبي يا حجر ثوبي يا حجر حتى نظرت بنوإسرائيل إلى موسى فقالوا: والله ما بموسى من بأس وأخذ ثوبه فطفق بالحجر ضربا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل ننگے ہو کر ایک ساتھ نہایا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، جبکہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے نہایا کرتے تھے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ کو ہمارے ساتھ نہانے سے صرف اس بات نے روکا ہے کہ وہ خصیتین کے ورم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام نہانے گئے تو اپنا کپڑا ایک پتھر پر رکھ دیا، پتھر ان کا کپڑا لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے اور کہتے جاتے: اے پتھر! میرا کپڑا دے، اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا تو کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ میں کوئی عیب نہیں ہے۔ پھر انہوں نے اپنا کپڑا لے لیا اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥٨.