حدیث نمبر: 3193
"الحلال بين والحرام بين وبينهما أمور مشتبهات لا يعلمها كثير من الناس فمن اتقى الشبهات فقد استبرأ لعرضه ودينه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله تعالى في أرضه محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا، جیسے وہ چرواہا جو کسی ممنوعہ چراگاہ کے ارد گرد جانور چراتا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں جا گھسے۔ خبردار! ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے، خبردار! اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الحاء / حدیث: 3193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن النعمان بن بشير. غاية المرام ٢٠.