صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن ثلاثة نفر في بني إسرائيل: أبرص وأقرع وأعمى بدا لله أن يبتليهم فبعث إليهم ملكا فأتى الأبرص فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: لون حسن وجلد حسن قد قذرني الناس فمسحه فذهب وأعطي لونا حسنا وجلدا حسنا فقال: أي المال أحب إليك؟ قال: الإبل فأعطي ناقة عشراء فقال: يبارك لك فيها; وأتى الأقرع فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: شعر حسن ويذهب هذا عني قد قذرني الناس فمسحه فذهب وأعطي شعرا حسنا قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: البقر فأعطاه بقرة حاملا وقال: يبارك لك فيها; وأتى الأعمى فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: يرد الله إلي بصري فأبصر به الناس فمسحه فرد الله إليه بصره قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: الغنم فأعطاه شاة والدا فأنتج هذان وولد هذا فكان لهذا واد من إبل ولهذا واد من بقر ولهذا واد من غنم; ثم إنه أتى الأبرص في صورته وهيئته فقال: رجل مسكين تقطعت به الحبال في سفره فلا بلاغ اليوم إلا بالله ثم بك أسألك بالذي أعطاك
اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعيرا أتبلغ عليه في سفري فقال له: إن الحقوق كثيرة فقال له: كأني أعرفك ألم تكن أبرص يقذرك الناس فقيرا فأعطاك الله؟ فقال: لقد ورثت لكابر عن كابر فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت; وأتى الأقرع في صورته وهيئته فقال له مثل ما قال لهذا ورد عليه مثل ما رد عليه هذا قال إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت; وأتى الأعمى في صورته وهيئته فقال: رجل مسكين وابن سبيل وتقطعت بي الحبال في سفري فلا بلاغ اليوم إلا بالله ثم بك أسألك بالذي رد عليك بصرك شاة أتبلغ بها في سفري؟ فقال: قد كنت أعمى فرد الله بصري وفقيرا فخذ ما شئت فوالله لا أحمدك اليوم لشيء أخذته لله فقال: أمسك مالك فإنما ابتليتم فقد رضي الله عنك وسخط على صاحبيك"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: ایک کوڑھی، دوسرا گنجا اور تیسرا نابینا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ فرمایا تو ان کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا۔ وہ فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ اور اچھی جلد عطا کر دی گئی۔ فرشتے نے پوچھا: تمہیں کون سا مال سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: اونٹ۔ چنانچہ اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت عطا فرمائے۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: خوبصورت بال اور یہ کہ میری یہ خامی دور ہو جائے کیونکہ لوگ مجھ سے کراہت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا گنجا پن دور ہو گیا اور اسے خوبصورت بال عطا کر دیے گئے۔ فرشتے نے پوچھا: تمہیں کون سا مال سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: گائے۔ چنانچہ اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت عطا فرمائے۔ پھر وہ فرشتہ نابینا کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔ فرشتے نے پوچھا: تمہیں کون سا مال سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: بکریاں۔ چنانچہ اسے ایک بچہ دینے والی بکری دے دی گئی۔ پھر ان دونوں (اونٹنی اور گائے) نے بچے دیے اور اس (بکری) نے بھی بچے جنے، یہاں تک کہ ایک کے پاس اونٹوں کی ایک وادی بھر گئی، دوسرے کے پاس گائیوں کی ایک وادی بھر گئی اور تیسرے کے پاس بکریوں کی ایک وادی بھر گئی۔ پھر وہ فرشتہ اپنی اسی (کوڑھی کی) شکل و صورت میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا: میں ایک مسکین آدمی ہوں، سفر کے دوران میرے تمام اسباب ختم ہو گئے ہیں، آج اللہ کی مدد اور پھر تمہارے سہارے کے سوا میری منزل تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ میں تم سے اس ذات کے واسطے سے جس نے تمہیں اچھا رنگ، خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں تاکہ میں اپنے سفر کو پورا کر سکوں۔ اس نے جواب دیا: مجھ پر اور بھی بہت سے حقوق (ذمہ داریاں) ہیں۔ فرشتے نے اس سے کہا: گویا میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کھاتے تھے؟ تم غریب تھے تو اللہ نے تمہیں مال عطا کیا؟ اس نے کہا: یہ مال تو مجھے اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم پہلے تھے۔ پھر وہ فرشتہ اپنی اسی (گنجے کی) شکل و صورت میں گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا، اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم پہلے تھے۔ پھر وہ فرشتہ اپنی اسی (نابینا کی) شکل و صورت میں نابینا کے پاس آیا اور کہا: میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر میں میرے تمام اسباب ختم ہو گئے ہیں، آج اللہ کی مدد اور پھر تمہارے سہارے کے سوا میری منزل تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ میں تم سے اس ذات کے واسطے سے جس نے تمہاری بینائی لوٹائی، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ میں اپنا سفر پورا کر سکوں۔ نابینا نے کہا: میں واقعی نابینا تھا تو اللہ نے میری بینائی لوٹا دی، اور میں فقیر تھا تو اس نے مجھے غنی کر دیا، تم جو چاہو لے لو، اللہ کی قسم! آج تم اللہ کے نام پر جو چیز بھی لو گے، میں تمہیں ہرگز نہیں روکوں گا۔ فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، تم لوگوں کو محض آزمایا گیا تھا، بیشک اللہ تم سے راضی ہو گیا ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں پر ناراض ہوا ہے۔“