حدیث نمبر: 1968
"إن الميت تحضره الملائكة فإذا كان الرجل صالحا قال: اخرجي أيتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب اخرجي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا يزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيستفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقول: فلان فيقال: مرحبا بالنفس الطيبة كانت في الجسد الطيب ادخلي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا يزال يقال لها ذلك حتى ينتهي بها إلى السماء التي فيها الله تبارك وتعالى; فإذا كان الرجل السوء قال اخرجي أيتها النفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث اخرجي ذميمة وأبشري بحميم وغساق
وآخر من شكله أزواج فلا يزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيستفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقال: فلان فيقال: لا مرحبا بالنفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث ارجعي ذميمة فإنها لا تفتح لك أبواب السماء فترسل من السماء ثم تصير إلى القبر; فيجلس الرجل الصالح في قبره غير فزع ولا مشعوف ثم يقال له: فيم كنت؟ فيقول: كنت في الإسلام فيقال له: ما هذا الرجل؟ فيقول: محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءنا بالبينات من عند الله فصدقناه فيقال له: هل رأيت الله؟ فيقول: ما ينبغي لأحد أن يرى الله فيفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا فيقال له: انظر إلى ما وقاك الله تعالى ثم يفرج له فرجة قبل الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: هذا مقعدك ويقال له: على اليقين كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله ; ويجلس الرجل السوء في قبره فزعا مشعوفا فيقال له: فيم كنت؟ فيقول: لا أدري فيقال له: ما هذا الرجل؟ فيقول: سمعت الناس يقولون قولا فقلته! فيفرج له فرجة قبل الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: انظر إلى ما صرف الله عنك ثم يفرج له فرجة إلى النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا فيقال: هذا مقعدك على الشك كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک میت کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پس اگر وہ نیک آدمی ہو تو (فرشتہ) کہتا ہے: اے پاکیزہ روح جو پاکیزہ جسم میں تھی! نکل آ، قابلِ تعریف حالت میں نکل، اور راحت، خوشبودار پھولوں (یا رزق) اور ایسے رب کی بشارت سن لے جو تجھ پر غضب ناک نہیں ہے۔ اسے مسلسل یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ روح نکل آتی ہے، پھر اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھا جاتا ہے۔ اس کے لیے دروازہ کھلوایا جاتا ہے تو پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتہ کہتا ہے: فلاں شخص ہے۔ کہا جاتا ہے: اس پاکیزہ روح کو خوش آمدید جو پاکیزہ جسم میں تھی، تو قابلِ ستائش حالت میں داخل ہو جا، اور راحت و آرام، پاکیزہ رزق اور ایسے رب کی بشارت پا جو ناراض نہیں ہے۔ اسے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے اس آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور اگر وہ برا آدمی ہو تو فرشتہ کہتا ہے: اے خبیث روح جو خبیث جسم میں تھی! نکل آ، برے حال میں نکل، اور کھولتے ہوئے پانی، پیپ اور ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ ”اسی شکل کے اور عذابوں کی بشارت سن لے۔“ [سورة ص: 58] اسے مسلسل یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل آتی ہے، پھر اسے لے کر آسمان کی طرف جایا جاتا ہے، اس کے لیے دروازہ کھلوایا جاتا ہے تو پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ کہا جاتا ہے: فلاں شخص ہے۔ تو کہا جاتا ہے: اس خبیث روح کو کوئی خوش آمدید نہیں جو خبیث جسم میں تھی، تو برے حال میں واپس لوٹ جا، کیونکہ تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ پس اسے آسمان سے گرا دیا جاتا ہے، پھر وہ قبر کی طرف آ جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، وہ نہ تو گھبرایا ہوا ہوتا ہے اور نہ ہی خوفزدہ۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تو کس دین پر تھا؟ وہ کہتا ہے: میں اسلام پر تھا۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: یہ شخص (محمد ﷺ) کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: یہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، وہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے؟ وہ کہتا ہے: کسی انسان کے لائق نہیں کہ وہ اللہ کو دیکھ لے۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے، وہ اسے دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو توڑ رہا (کھا رہا) ہوتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اس عذاب سے اللہ تعالیٰ نے تجھے بچا لیا ہے۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے، تو وہ اس کی رونق اور اس کی نعمتوں کو دیکھتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور اس سے مزید کہا جاتا ہے: تو (دنیا میں) یقین پر قائم تھا، اسی پر تجھے موت آئی اور ان شاء اللہ اسی پر تجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور برا شخص اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اس حال میں کہ وہ انتہائی گھبرایا ہوا اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تو کس دین پر تھا؟ وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دی! پس اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے، وہ اس کی رونق اور نعمتوں کو دیکھتا ہے، تو اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اس نعمت کو اللہ نے تجھ سے پھیر دیا (یعنی تجھے محروم کر دیا)۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے، تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو کچل رہا ہوتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے، تو شک پر قائم تھا، اسی پر تو مرا، اور ان شاء اللہ اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الترغيب ٤/١٨٨.