حدیث نمبر: 1776
"إن الله سيخلص رجلا من أمتي على رءوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول: أتنكر من هذا شيئا؟ أظلمك كتبتي الحافظون؟ فيقول: لا يا رب فيقول: أفلك عذر؟ فيقول: لا يا رب فيقول: بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فيقول: احضر وزنك فيقول: يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات؟ فيقال: فإنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت
السجلات وثقلت البطاقة ولا يثقل مع اسم الله تعالى شيء"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک آدمی کو تمام مخلوق کے سامنے الگ کرے گا، پھر اس کے سامنے گناہوں کے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر کی لمبائی حدِ نگاہ تک ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے نگہبان کاتبوں نے تجھ پر کوئی ظلم کیا ہے؟ وہ بندہ عرض کرے گا: نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی موجود ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایک پرچی نکالی جائے گی جس میں لکھا ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنے وزن کیے جانے کے وقت حاضر رہو۔ وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے رب! ان اتنے بڑے رجسٹروں کے سامنے اس ایک پرچی کی کیا حیثیت ہے؟ اس سے کہا جائے گا: یقیناً تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچی دوسرے پلڑے میں رکھی جائے گی، پس وہ رجسٹر ہلکے پڑ جائیں گے اور وہ پرچی بھاری ہو جائے گی، اور اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کوئی بھی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك هب] عن ابن عمرو. شرح الطحاوية ٥٦٧، الصحيحة ١٣٥، الترغيب ٢/٢٤١، المشكاة ٥٥٥٩.