حدیث نمبر: 1315
«ألم تعلموا ما لقي صاحب بني إسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم البول قطعوا ما أصابه البول منهم فنهاهم عن ذلك فعذب في قبره»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”«أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ» (ترجمہ: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا انجام دیکھنا پڑا؟ ان (بنی اسرائیل) کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے جسم یا کپڑے کے کسی حصے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ پیشاب لگنے والی جگہ کو کاٹ ڈالتے تھے۔ اس شخص نے انہیں اس عمل سے منع کیا، جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔)“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ حب ك هق] عن عبد الرحمن بن حسنة. صحيح أبي داود ١٦، صحيح الترغيب١٥٦.