حدیث نمبر: 1301
«اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللهم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضا بالقضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”«اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْإِخْلَاصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» (ترجمہ: اے اللہ! تیرے غیب کے علم اور مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق زندگی میرے لیے بہتر ہے، اور مجھے اس وقت موت دے دے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں تیرے ڈر کا سوال کرتا ہوں، اور میں خوشی اور غصے دونوں حالتوں میں کلمہ حق و اخلاص کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے فقر اور مالداری دونوں حالتوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو، اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو کبھی منقطع نہ ہو، اور تجھ سے تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں، اور موت کے بعد پرسکون زندگی کا سوال کرتا ہوں، اور تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا اور تجھ سے ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، بغیر کسی نقصان دہ تکلیف کے اور بغیر کسی گمراہ کن فتنے کے۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ اور دوسروں کے لیے باعثِ ہدایت بنا دے۔)“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن عمار بن ياسر. صفة الصلاة ١٦٥، الكلم الطيب ١٠٥.