782/1020- (حسن) عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم على قومٍ فيهم رجلٌ متخلق بخلوق فنظر إليهم، وسلم عليهم، وأعرض عن الرجل، فقال الرجل، أعرضت عني!؟ قال: "بين عينيه جمرة"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں ایک آدمی نے خلوق (زعفران ملی خوشبو) لگا رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا، انہیں سلام کہا اور اس آدمی سے منہ پھیر لیا۔ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا !؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان انگارہ ہے ۔“
783/1021- عن عبد الله بن عمرو بن العاص بن وائل السهمي: أن رجلاً أتى النبي صلى الله عليه وسلم وفي يده خاتم من ذهب، فأعرض النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فلما رأى الرجل كراهيته ذهب فألقى الخاتم، وأخذ خاتم من حديد فلبسه، وأتى النبي صلى الله عليه وسلم قال: "هذا شرّ؛ هذا حلية أهل النار". فرجع، فطرحه، ولبس خاتماً من ورق، فسكت عنه النبي صلى الله عليه وسلم.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ جب اس آدمی نے آپ کی ناپسندیدگی دیکھی تو جا کر انگوٹھی پھینک دی اور لوہے کی ایک انگوٹھی لے کر پہن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ (اس سے بھی) بری ہے، یہ جہنمیوں کا زیور ہے ۔“ وہ واپس گیا، اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی پہن لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں خاموش رہے ۔