634/820- (صحيح) عن ابن عمر ؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم غيّر اسم عاصية، وقال: " أنت جميلة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمان) کا نام بدل دیا اور فرمایا: ”تم جمیلہ ہو۔“
635/821- (صحيح) عن محمد بن عمرو بن عطاء؛ أنه دخل على زينب بنت أبي سلمة، فسألته عن اسم أختٍ له عنده؟ [قال]: فقلت: اسمُها برّة، قالت: غير اسمها؛ فإن النبي صلى الله عليه وسلم نكح زينب بنت جحش واسمها برة، فغير اسمها إلى زينب، فدخل على أم سلمة حين تزوجها، واسمي برة، فسمعها تدعوني : برة، فقال: " لا تزكوا أنفسكم؛ فإن الله هو أعلم بالبرة منكن والفاجرة، سميها: زينب"، فقالت: فهي زينب. فقلت لها: سمِّي؟(1)
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو انہوں نے ان سے ان کی ایک بہن کے نام کے بارے میں پوچھا جو ان کے پاس تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا: اس کا نام برہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: اس کا نام بدل دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے نکاح کیا تو ان کا نام برہ تھا، آپ نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا۔ اور جب آپ نے ام سلمہ سے شادی کی تو ان کے پاس تشریف لائے، اور میرا نام (بھی) برہ تھا، آپ نے انہیں مجھے برہ کہہ کر پکارتے سنا تو فرمایا: ”اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو، کیونکہ اللہ ہی تم میں سے نیک اور بدکار عورت کو زیادہ جانتا ہے، اس کا نام زینب رکھو۔“ تو (ام سلمہ نے) کہا: پس وہ زینب ہے۔ میں نے ان سے کہا: (تو پھر میں اس کا) نام (کیا) رکھوں؟