کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: مومن طعن و تشنیع کرنے والا نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 235
235/309 (حسن صحيح) عن سالم بن عبد الله قال: ما سمعت عبد الله لاعناً أحداً قط، ليس إنساناً(1). وكان سالم يقول: قال عبد الله بن عمر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا ينبغي للمؤمن أن يكون لعاناً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سالم بن عبداللہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ (ابن عمر) رضی اللہ عنہما کو انسان تو کیا کسی چیز پر لعنت کرتے نہیں سنا ۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 235
حدیث نمبر: 236
236/311 (صحيح) عن عائشة رضي الله عنها ؛ أن يهودياً أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليكم، فقالت عائشة: وعليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم. قال: " مهلاً يا عائشة! عليك بالرفق، وإياك والعنف والفحش". قالت: أو لم تسمع ما قالوا؟ قال: " أو لم تسمعي ما قلت؟ رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم فيّ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے «السام عليكم» (تم پر تباہی آئے ) کہا: ۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور تم پر بھی تباہی ، اور اللہ تم پر لعنت کرے ، اور اللہ کا غضب تم پر ہو ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ٹھہرو عائشہ ! تمہیں نرمی اختیار کرنی چاہئے ، سختی اور فحش کلامی سے پرہیز کرو ۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں جو ان لوگوں نے کہا: ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا: ؟ میں نے ان پر لوٹا دیا ہے میری بات تو ان کے حق میں قبول ہو جائے گی اور ان کی بددعا میرے حق میں قبول نہ ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 236
حدیث نمبر: 237
237/312 (صحيح) عن عبد الله [ هو ابن مسعود]، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ليس المؤمن بالطعان، ولا باللعان، ولا الفاحش، ولا البذيء".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (ابن مسعود ) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مومن نہ تو طعنے دینے والا ہوتا ہے اور نہ لعنتیں کرنے والا ، نہ فحش کلامی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ گالی گلوچ کرنے والا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 237
حدیث نمبر: 238
238/313 (حسن صحيح) عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا ينبغي لذي الوجهين أن يكون أميناً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دو رخے آدمی کے لائق نہیں ہے کہ وہ امانت دار ہو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 238
حدیث نمبر: 239
293/314(صحيح الإسناد) عن عبد الله [ هو ابن مسعود] قال: "ألأم أخلاق المؤمن الفحش".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مومن کے اخلاق میں سے سب سے زیادہ قابل ملامت بیہودہ گوئی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 239