کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: باپ اپنی اولاد کو ادب سکھائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے
حدیث نمبر: 69
69/93 عن النعمان بن بشير، أن أباه انطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحمله فقال: يا رسول الله! إني أشهدك أنى قد نحلت النعمان كذا وكذا، فقال: "أكل ولدك نحلت؟". قال: لا. قال: "فأشهد غيرى". ثم قال: "أليس يسرك أن يكونوا في البر سواء". قال: بلى. قال: "فلا إذاً". قال أبو عبد الله البخاري: ليس الشهادة من النبي صلى الله عليه وسلم رخصة.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور (ان کے والد نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا ، یا رسول اﷲ ! میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیزیں دے دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو یہ تحفہ دیا ہے“ ، عرض کیا : نہیں ۔ فرمایا : ”تو پھر کسی اور کو گواہ بناؤ ۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارے سارے بچے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے میں برابر ہوں ۔“ عرض کیا کیوں نہیں ، فرمایا : ”تو پھر ایسا نہ کرو ۔“ ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گواہی دینا اجازت کے قائم مقام نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 69
تخریج حدیث (صحيح)