53/72 عن جبير بن مطعم أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول على المنبر: "تعلموا أنسابكم، ثم صلوا أرحامكم، والله إنه ليكون بين الرجل وبين أخيه الشيء، ولو يعلم الذي بينه وبينه من داخلة الرحم، لأوزعه ذلك عن انتهاكه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : ”اپنے نسب (اور خاندانی رشتے) سیکھو ، پھر اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو ۔ اللہ کی قسم ! کبھی آدمی اور اس کے بھائی کے درمیان کوئی (رنجش کی) بات ہوتی ہے ، اگر اسے معلوم ہو کہ اس کے اور اس کے درمیان رشتہ داری کا کتنا گہرا تعلق ہے تو یہ بات اسے اس رشتے کی بے حرمتی کرنے سے روک دے ۔“
54/73 - عن ابن عباس؛ أنه قال: " احفظوا أنسابكم، تصلوا أرحامكم؛ فإنه لا بعد بالرحم إذا قربت، وإن كانت بعيدة، ولا قرب بها إذا بعدت، وإن كانت قريبة، وكل رحم أتيه يوم القيامة أمام صاحبها، تشهد له بصلة؛ إن كان وصلها، وعليه بقطيعة؛ إن كان قطعها".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ”اپنے نسب یاد رکھو ، (اس طرح) تم اپنے رشتوں کو جوڑ سکو گے ، کیونکہ رشتہ داری جب جڑی رہے تو اس میں کوئی دوری نہیں ، اگرچہ وہ دور کی ہو ، اور جب اسے توڑ دیا جائے تو اس میں کوئی قربت نہیں ، اگرچہ وہ قریب کی ہو ۔ اور ہر رشتہ داری قیامت کے دن اپنے صاحب کے سامنے آئے گی ، اگر اس نے اسے جوڑا ہو گا تو اس کے حق میں صلہ رحمی کی گواہی دے گی ، اور اگر اس نے اسے توڑا ہو گا تو اس کے خلاف قطع رحمی کی گواہی دے گی ۔“