55/75 عن رفاعة بن رافع؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال عمر رضي الله عنه: "اجمع لي قومك". فجمعهم، فلما حضروا باب النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليه عمر فقال: قد جمعت لك قومي، فسمع ذلك الأنصار، فقالوا: قد نزل في قريش الوحي، فجاء المستمع والناظر ما يقال لهم، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم، فقام بين أظهرهم، فقال: "هل فيكم من غيركم؟" قالوا نعم فينا حليفنا وابن اختنا وموالينا. قال النبي صلى الله عليه وسلم : "حليفنا منا، وابن اختنا منا، وموالينا منا، وأنتم تسمعون: إن أوليائي منكم المتقون؛ فإن كنتم أولئك فذاك، وإلا فانظروا لا يأتي الناس بالأعمال يوم القيامة، وتأتون بالأثقال، فيعرض عنكم" ثم نادى فقال: "يا أيها الناس! - ورفع يديه يضعهما على رؤوس قريش - أيها الناس! إن قريشا أهل أمانة، من بغى بهم - قال: زهير أظنه قال: العواثر(1) - كبه الله لمنخريه" يقول ذلك ثلاث مرات.سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”میرے لیے اپنی قوم (قریش) کو جمع کرو ۔“ چنانچہ انہوں نے انہیں جمع کیا ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر حاضر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گئے اور عرض کیا : میں نے آپ کے لیے اپنی قوم کو جمع کر دیا ہے ۔ یہ بات انصار نے سنی تو کہنے لگے : قریش کے بارے میں وحی نازل ہوئی ہے ۔ چنانچہ سننے والا اور دیکھنے والا (ہر ایک) یہ جاننے کے لیے آ گیا کہ ان سے کیا کہا جاتا ہے ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا : ”کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے ؟“ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ہم میں ہمارے حلیف ، ہمارے بھانجے اور ہمارے موالی (آزاد کردہ غلام) ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہمارا حلیف ہم میں سے ہے ، ہمارا بھانجا ہم میں سے ہے اور ہمارے موالی ہم میں سے ہیں ۔ اور تم سن رہے ہو : تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو متقی ہیں ، اگر تم وہی ہو تو ٹھیک ہے ، ورنہ دیکھ لو ، ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم (گناہوں کے) بوجھ لے کر آؤ اور تم سے منہ پھیر لیا جائے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر فرمایا : ”اے لوگو ! — اور آپ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر قریش کے سروں پر رکھے — اے لوگو ! قریش امانت دار لوگ ہیں ، جو شخص ان کے خلاف سرکشی کرے — زہیر (راوی) کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ان کے لیے) ٹھوکریں (اور مصیبتیں) چاہے — اللہ تعالیٰ اسے اس کے نتھنوں کے بل اوندھا گرا دے گا ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔