989/1311 (صحيح) عن عائشة : استأذن رجل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ائذنوا له، بئس أخو العشيرة". فلما دخل؛ ألان له الكلام (وفي طريق ثانية: انبسط إليه/338)، فقلت: يا رسول الله! قلت الذي قلت، ثم ألنت الكلام؟ قال: "أي عائشة! إن شر الناس من تركه الناس- أو ودعه الناس- اتقاء فحشه"، (وفي طريق ثالثة: "إن الله لا يحب الفاحش المتفحش")(1).سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔“ پھر جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو فرمائی (اور ایک دوسری سند میں ہے: آپ اس سے کشادہ روئی سے پیش آئے)۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے (پہلے) وہ بات فرمائی جو فرمائی، پھر اس سے نرمی سے گفتگو فرمائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“ (اور ایک تیسری سند میں ہے: ”بیشک اللہ بدزبان، بے ہودہ گو کو پسند نہیں کرتا۔“)