حدیث نمبر: 851
851/1112 (حسن) عن عقبة بن عامر الجهني : أنه مر برجل هيئته هيئة مسلم، فسلم فرد عليه: وعليك ورحمة الله وبركاته. فقال له الغلام: إنه نصراني! فقام عقبة فتبعه حتى أدركه. فقال: "إن رحمة الله وبركاته على المؤمنين، لكن أطال الله حياتك، وأكثر مالك، وولدك"(1).ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کی وضع قطع مسلمان جیسی تھی، اس نے سلام کیا تو انہوں نے اسے جواب دیا: وعلیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ (اور تجھ پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں)۔ تو ان کے غلام نے ان سے کہا: وہ تو عیسائی ہے! چنانچہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اسے جا لیا اور فرمایا: ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تو مومنوں پر ہیں، لیکن (تمہارے لیے دعا ہے کہ) اللہ تمہاری عمر دراز کرے، اور تمہارا مال اور تمہاری اولاد زیادہ کرے ۔“