849/1109 (صحيح) عن عبد الله بن عباس : أن أبا سفيان بن حرب أخبره، أرسل إليه هرقل ملك الروم، ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي [أرسل به](1) مع دحية الكلبي إلى عظيم (بصرى)، فدفعه إلى هرقل فقرأه، فإذا فيه: "بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم، سلام على من اتبع الهدى، أما بعد؛ فإني أدعوك بدعاية الإسلام، أسلم تسلم؛ يؤتك الله أجرك مرتين؛ فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين و ?يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينك… ? إلى قوله: ?اشهدوا بأنا مسلمون? [آل عمران: 64].سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ روم کے بادشاہ ہرقل نے انہیں بلا بھیجا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ بصریٰ کے حاکم کی طرف بھیجا تھا، اور اس (حاکم) نے وہ ہرقل کے حوالے کر دیا تھا، ہرقل نے اسے پڑھا تو اس میں (یہ) لکھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے روم کے سردار ہرقل کی طرف۔ اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے، اللہ تمہیں دوگنا اجر دے گا، اور اگر تم نے منہ موڑا تو تم پر (تمہاری) رعایا (اریسیوں) کا گناہ بھی ہو گا، اور «يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينك» ”اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے“ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: «اشهدوا بأنا مسلمون» ”گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں“ [آل عمران: 64] ۔“